اس سے پہلے، جوہری ہتھیار ہی واحد وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے جو کسی جامع اور عالمی سطح پر قابلِ اطلاق پابندی کے تحت نہیں آتے تھے۔ اس طرح یہ نیا معاہدہ بین الاقوامی قانون میں ایک بڑے خلا کو پُر کرتا ہے۔
یہ معاہدہ انسانی بقا، ماحول، سماجی و اقتصادی ترقی، عالمی معیشت، غذائی تحفظ، اور موجودہ و آنے والی نسلوں کی صحت و فلاح کو جوہری ہتھیاروں سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرے پر گہری تشویش کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
یہ نہ صرف پہلا کثیرالجہتی معاہدہ ہے جو واضح طور پر جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کرتا ہے، بلکہ یہ پہلا ایسا معاہدہ بھی ہے جو جوہری ہتھیاروں کے قابلِ تصدیق خاتمے کے لیے فریم ورک قائم کرتا ہے اور ان کے استعمال اور تجربات کے متاثرین کی مدد کا بھی انتظام کرتا ہے
حقیقت: اب تک [FACT]fact-ratifications[/FACT] ممالک نے جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کے معاہدے کی توثیق کی ہے یا اس میں شامل ہوئے ہیں، جبکہ مزید [FACT]fact-signatories[/FACT] ممالک نے اس پر دستخط کیے ہیں
مزید ممالک کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے
اگرچہ آج تک کسی بھی جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک نے جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کے معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی، تاہم یہ معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف عالمی سطح پر قائم ممانعت کو مضبوط بنانے اور اسلحہ کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے درکار اقدامات کو تیز کرنے کا ایک ناگزیر ذریعہ ہے۔
تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مخصوص اقسام کے ہتھیاروں پر پابندی ان کے خاتمے کی طرف پیش رفت کو آسان بناتی ہے۔ جن ہتھیاروں کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے، انہیں بتدریج غیر قانونی اور ناجائز سمجھا جانے لگتا ہے، ان کی سیاسی حیثیت کمزور پڑ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کی تعمیر کے لئے درکار وسائل بھی کم ہو جاتے ہیں۔