جوہری ہتھیار کے اثرات
حرارت
جب ایک جوہری ہتھیار پھٹتا ہے تو یہ شدید حرارت خارج کرتا ہے دھماکے کی مرکزی جگہ کے قریب تقریباً ہر چیز اور ہر شخص فوراً راکھ اور بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایک بڑا آگ کا گولہ، جس کا مرکزی درجہ حرارت دس لاکھ ڈگری سیلسیس سے بھی زیادہ ہوتا ہے، آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے، جبکہ زمین کی سطح کا درجہ حرارت کئی ہزار ڈگری تک پہنچ جاتا ہے — جو سورج کی سطح سے بھی زیادہ گرم ہوتا ہے۔
یہ شدید حرارت وسیع علاقے میں آگ بھڑکا دیتی ہے، جو زہریلا دھواں اور جلنے والی گیسیں فضا میں چھوڑتی ہیں اور مل کر ایک عظیم آگ کے طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
حتیٰ کہ وہ لوگ جو دھماکے کی مرکزی جگ سے درجنوں کلومیٹر دور ہوتے ہیں شدید اور جان لیوا جھلساؤ کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ اس سے بھی زیادہ فاصلے پر موجود افراد تیز روشنی کی چمک سے بینائی کھو بیٹھتے ہیں۔
[END]
دھماکہ
جوہری ہتھیار ایک نہایت طاقتور اور تیز رفتار بلند دباؤ والی ہوا کی دیوار بھی پیدا کرتا ہے جسے شاک ویو کہا جاتا ہے، جو کئی کلومیٹر تک باہر کی طرف پھیلتی ہے۔
یہ لوگوں کو فضا میں اچھال دیتی ہے، انہیں بے ہوش کر دیتی ہے، ان کے جسموں کو چیر پھاڑ دیتی ہے اور ان کے پھیپھڑوں کو تباہ کر دیتی ہے۔
وسیع علاقے میں عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو جاتی ہیں اور بہت سے لوگ دب کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ڈھیلی اشیاء فضا میں میزائل کی طرح اچھالی جاتی ہیں۔
یہاں تک کہ کنکریٹ اور فولاد سے بنی بلند و بالا عمارتیں بھی اس دھماکے کی شدت سے تباہ ہو جاتی ہیں۔
[END]
تابکاری
جوہری سلسلہ رد عمل، جو دھماکے کا سبب بنتا ہے، بڑی مقدار میں آئنائزنگ تابکاری خارج کرتا ہے، جو انسانوں کے جسموں میں گہرائی تک داخل ہو کر ان کے خلیات کوتباہ کر دیتی ہےیا نقصان پہنچاتی ہے اور بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔
دھماکے کی مرکزی جگہ سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر بھی لوگوں کو اتنی زیادہ تابکاری ملتی ہے کہ وہ شدید تابکاری زہر (ایکیوٹ ریڈی ایشن پوائزننگ) سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
اس کی علامات میں قے، مسوڑھوں سے خون آنا، اسہال اور بالوں کا جھڑنا شامل ہیں۔ زیادہ تر متاثرہ افراد حملے کے چند ماہ کے اندر ہی وفات پا جاتے ہیں۔
کچھ لوگ بیماری کے ابتدائی مرحلے سے تو صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن سالوں یا حتیٰ کہ دہائیوں بعد کینسر اور دیگر بیماریوں سے مر جاتے ہیں، جو تابکاری کے دیرپا اثرات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
کچھ زندہ بچ جانے والوں میں کروموسوم کی بے قاعدگیاں اور دیگر جینیاتی نقصانات دیکھے جاتے ہیں، جو آئندہ نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
[END]
تابکار ذرات کی بارش
جوہری ہتھیار ایک بہت بڑا کھمبی نما بادل بھی پیدا کرتا ہے، جو تابکار گرد و غبار اور ملبے کو اوپر کی طرف کھینچ کر فضا میں چھوڑ دیتا ہے۔
ہوائی دھارائیں اسے فضا میں پھیلا دیتی ہیں، اور بالآخر یہ ایک وسیع علاقے میں زمین پر گرنے لگتا ہے۔
اسے تابکار ذرات کی بارش یا فال آؤٹ کہا جاتا ہے، یہ دھماکے کی مرکزی جگہ سے دور رہنے والے لوگوں کے لیے بھی فوری اور طویل مدتی صحت کے خطرات پیدا کرتا ہے۔ کچھ تابکار اجزاء کئی سالوں تک خطرناک رہتے ہیں اور مٹی، پانی اور خوراک کو آلودہ کر دیتے ہیں۔
[END]
برقی مقناطیسی لہر
اگر کسی جوہری ہتھیار کا دھماکا بہت زیادہ بلندی پر کیا جاتا ہے تو یہ ایک طاقتور برقی مقناطیسی لہر خارج کرتا ہے، جو وسیع علاقے میں الیکٹرانک آلات کو تباہ کر دیتا ہے۔ موبائل مواصلاتی نظام، انٹرنیٹ کی صلاحیتیں اور بینکنگ ٹیکنالوجی شدید طور پر متاثر اور درہم برہم ہو جاتی ہیں۔
یہ اثر سب سے پہلے فضائی اور بلند فضا میں کیے جانے والے جوہری تجربات کے دور میں دیکھا گیا تھا۔ 1962 میں جب امریکہ نے بحر الکاہل میں جانسٹن ایٹول سے تقریباً 400 کلومیٹر اوپر خلا میں ایک جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا تو اس کے اثر سے ہوائی میں اسٹریٹ لائٹس اور فونز کو نقصان پہنچا، جو 1,450 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع تھے۔
ایک بہت زیادہ طاقتوراور بلند فضا میں کیا جانے والا جوہری دھماکہ پورے براعظم کے الیکٹرانک نظام کو تباہ کرسکتا ہے۔
[SPLIT]
[VIDEO]https://assets.nationbuilder.com/ican/pages/13605/attachments/original/1779112937/video-explosion.mp4?1779112937[/VIDEO]
[CAPTION]امریکی ریاست نیواڈا میں ایک فرضی گھر پر کیے گئے جوہری تجربے کے دھماکے کے اثرات۔ کریڈٹ: امریکی حکومت[/CAPTION]