استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرات

آج کے دور میں جوہری ہتھیار کے استعمال کا خطرہ—چاہے حادثاتی طور پر ہو یا جان بوجھ کر—اتنا ہی زیادہ ہے جتنا کبھی رہا ہے، بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ صورتِ حال مختلف عوامل کی وجہ سے ہے، جیسے کہ خراب بین الاقوامی سیکیورٹی ماحول، جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، ان کے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافہ، اور بین الاقوامی اصولوں اور اداروں کا کمزور ہونا۔

فوجی میدان میں جارحانہ سائبر صلاحیتوں، خودکار ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کی ترقی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کو ہائی الرٹ پر رکھنا—یعنی کسی ممکنہ حملے کی وارننگ ملتے ہی چند منٹوں میں استعمال کے لیے تیار رکھنا—ایک نہایت خطرناک عمل ہے۔ جب ایک جوہری میزائل داغ دیا جائے تو اسے واپس نہیں بلایا جا سکتا۔ اسے اپنے ہدف تک پہنچنا ہی ہوتا ہے، چاہے اس کا آغاز غلط معلومات کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہوا ہو۔

جنگ کے دھندلکے میں، رہنما اکثر غیر معقول اور غیر متوقع فیصلے کرنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ دباؤ اور افراتفری کی صورتحال میں غلط فہمیوں کے امکانات خاص طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔

سرد جنگ کے دوران کئی مواقع پر دنیا ایک مکمل جوہری جنگ کے نہایت قریب پہنچ گئی تھی۔ سب سے بدنام واقعہ 1962 کا کیوبا میزائل بحران تھا، جس میں امریکہ اور سوویت یونین شامل تھے۔

یہ حقیقت کہ 1945 کے بعد سے جوہری ہتھیار کسی جنگ میں استعمال نہیں ہوئے، زیادہ تر اچھی قسمت کا نتیجہ ہے نہ کہ مؤثر انتظام کا۔ اور جلد یا بدیر، ہماری یہ خوش قسمتی ختم ہو جائے گی—اگر اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے۔