آج کے دور میں ایٹمی ہتھیار

آج نو ممالک کے پاس کئی ہزار ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، جو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک منفرد وجودی خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے سیکڑوں ہتھیاروں کو انتہائی الرٹ حالت میں رکھا جاتا ہے، جو چند منٹوں کے اندر استعمال کے لیے تیار ہوتے ہیں۔


یہ میزائل سائلوز میں، طیاروں میں، اور آبدوزوں میں موجود ہیں جو ہر وقت سمندروں میں گشت کرتی رہتی ہیں۔ ان میں سے کچھ ہتھیار ہزاروں کلومیٹر تک، براعظموں کو عبور کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔

حقیقت: دنیا کے نو ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کے پاس اس وقت اندازاً [FACT]fact-nuclear-weapons[/FACT] ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر ہتھیاروں کی تباہ کن طاقت ایٹمی دور کے آغاز میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے بموں سے کہیں زیادہ ہے۔ سب سے بڑے ہتھیاروں کی طاقت ایک ملین ٹن یا ایک میگاٹن ٹن ٹی این ٹی جیسے روایتی کیمیائی دھماکہ خیز مواد کے برابر ہوتی ہے۔

یہاں تک کہ نام نہاد “ٹیکٹیکل” ایٹمی ہتھیار، جو میدانِ جنگ میں استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں،وہ بھی ہیروشیما بم سے 20 گنا زیادہ تباہ کن طاقت رکھتے ہیں۔

ایک واحد ایٹمی ہتھیاروں سے لیس آبدوز ایک درجن یا اس سے زیادہ بیلسٹک میزائل لے جا سکتی ہے، جن میں سے ہر ایک میں کئی ایٹمی وارہیڈز ہوتے ہیں، اور ان کی مجموعی صلاحیت سو سے زیادہ شہروں کو تباہ کرنے کی ہوتی ہے۔