کوئی انسانی ہمدردی پر مبنی ردِعمل نہیں

دنیا میں کہیں بھی کسی ایک بھی جوہری ہتھیار کا استعمال صحت کے نظام کو اس قدر متاثر کر دے گا کہ انسانی ہمدردی پر مبنی مؤثر امدادی ردِعمل ناممکن ہو جائے گا۔

ہسپتال اور فارمیسیاں، آگ بجھانے کا سامان، مواصلاتی اور نقل و حمل کے نظام سب تباہی کے ایک ایسے علاقے میں ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے جو کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوگا۔

مکمل تباہی کے زون میں، جو کئی کلومیٹر تک پھیلا ہو گا، ہسپتال، فارمیسیاں، آگ بجھانے کا سامان، مواصلاتی اور نقل و حمل کے نظام سب کچھ، ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے۔

بیماروں اور زخمیوں کی مدد کرنے کی کوشش کرنے والے افراد بھی بلند سطح کی تابکاری کے خطرے سے دوچار ہوں گے، جس سے ان کی اپنی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایک بھی جوہری ہتھیار کے استعمال کی صورت میں مناسب ردِعمل کی کوئی صلاحیت موجود نہیں، چہ جائیکہ مکمل پیمانے کی جوہری جنگ، اور ایسی صلاحیت کبھی بھی تیار نہیں کی جا سکتی۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ایک بھی جوہری ہتھیار کے استعمال کی صورت میں، مناسب ردِعمل کی صلاحیت موجود نہیں ہے، چہ جائیکہ مکمل پیمانے کی جوہری جنگ ، اور نہ ہی ایسی کوئی صلاحیت کبھی تیار کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح، عالمی ادارۂ صحت نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے: "دنیا میں جو بھی طبی خدمات باقی رہ جائیں گی، وہ اس تباہی کو کسی بھی نمایاں حد تک کم نہیں کر سکتیں۔

ہیروشیما کے ایک زندہ بچ جانے والے کی 1945 میں بنائی گئی عکاسی، جس میں ایک امدادی مرکز دکھایا گیا ہے۔ زخمی ایک کے بعد ایک دم توڑ رہے تھے۔ کریڈٹ: فُمی کو یاما اوکا